استعارہ بندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نظم یا نثر میں استعار کا استعمال۔ "ایک شخص - گالیوں میں ہر قسم کی سخن آرائی، لفاظی، جدت پسندی، استعارہ بندی صرف کرتا ہے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٢ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اِسْتِعارَہ' کے ساتھ فارسی زبان کے 'بستن' مصدر سے 'بند' فعل امر یا 'طِرازِیْدَن' مصدر سے 'طراز' فعل امر ہے جوکہ اردو میں بطور لاحقۂ فاعلی استعمال ہوتے ہیں۔ آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔

مثالیں

١ - نظم یا نثر میں استعار کا استعمال۔ "ایک شخص - گالیوں میں ہر قسم کی سخن آرائی، لفاظی، جدت پسندی، استعارہ بندی صرف کرتا ہے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٢ )

جنس: مؤنث